Pardes
پردیس از سمیرہ حمید یارم اور طوافِ عشق کے بعد میں نے سمیرہ حمید کا ناول پردیس پڑھا۔ ان کا اندازِ بیان ہمیشہ منفرد رہا ہے ۔ وہ حقیقت پر بات کرتی ہیں، دکھوں کو لفظوں میں ڈھالتی ہیں اور پھر ان میں جینے کی امید بھی ڈال دیتی ہیں۔ ہمیشہ میں نے انہیں خوابوں پر،امید پر،عورت پر ،قربانی پر،حوصلے پر بات کرتے ہی دیکھا ہے۔اس دنیا میں بہت کم لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو دوسروں میں روشنی بھرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔دوسروں کے لیے وہ جگنو بن جاتے ہیں جو اپنی روشنی سے انہیں راستہ تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک طویل عرصے بعد اُردو میں ایسا ناول سامنے آیا ہے جو فکشن کم اور حقیقت زیادہ لگاہے۔ ہماری اس نسل کے لیے یہ ناول پڑھنا بے حد ضروری ہے تاکہ وہ معاشرے کی سب سے کمزور کلاس، خاص طور پر عورت کی حالت اور جدوجہد کو سمجھ سکیں۔ پردیس خواتین کے مسائل پر مبنی ایک لاجواب کہانی ہے۔ اسے صرف بری شادی، شوہر یا سسرال کی بدسلوکی تک محدود نہیں کیا گیا بلکہ یہ دکھایا ہےکہ دیس سے نکل کر پردیس میں گھر بسانا اور قائم رکھنا عورت کے لیے کیسی کٹھن آزمائش ہے۔ اجالا ہو، گل ہو، نیتو، سارہ یا بلبل،سب کی زندگی قربانی...







